تباہی زدہ
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - بدنصیب، فلاکت زدہ، مفلوک الحال، آفت رسیدہ۔ "ہم بیچارے مصیبت کے مارے تباہی زدہ. از وطن دور غریب مسافران مہجور ہیں۔" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'تباہی' کے ساتھ فارسی زبان سے ہی صفت 'زدہ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٧ء، میں "درۃ الانتخاب" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بدنصیب، فلاکت زدہ، مفلوک الحال، آفت رسیدہ۔ "ہم بیچارے مصیبت کے مارے تباہی زدہ. از وطن دور غریب مسافران مہجور ہیں۔" ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٤ )